ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 07/31/05

مدارس آرڈ یننس

یہ لو ایک اور آرڈیننس (مدارس آرڈیننس) آرہا ہے آنے دو! دھشت گردی کے خلاف جنگ کے علاوہ کوئی دوسرا کام بڑی روانگی سے کر رہی ہےوہ نئے نئے آرڈیننس پاس کر ہی ہے اور پرانے قوانین کو ترمیم کے بعد نئے نام سے جاری۔نہیں نہیں جناب ہمیں کوئی اعتراز نہیں ہم نے نہ تو حسبہ بل پر اعتراز کیا نہ اس پر اعتراز کرنے پر اعتراز کیا بلا اب کیا کرے گے۔ بھائی ہمیں نہ تو قانون بنانے پر شکایت ہے نہ اس کے پاس ہونے پر نہ اس کے نفاذ پر، بات ساری ہی ہے کہ یہ تو ہو کہ یہ سارے کام ہم اپنی خواہش اور مرضی سے کر رہے ہیں اب اس آرڈیننس کو ہی لے لیں لگتا ہے کہ انکل سام اور اس کے چیلے کے حکم پر بنایا جا رہاہے۔ فارن میڈیا سے خطاب میں صدر صاحب نے ارشاد کیا “دسمبر تک مدارس کی رجسٹریشن مکمل ہونی چاہئے“ ٹھیک ہے جناب مگر! ساتھ ہی حکم جاری ہوا کہ “غیر ملکی طالب علموں دسمبر تک ملک چھوڑ جاؤ“۔ ہان اب وہ کہے گے کہ ہم نے یہ فیصلہ بھی خود کیا ہے،کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔ فلسفی اسپنزنے کہا تھاکہ اگر کسی اینٹ کو ہوا میں پھینک دیا جائے اور پوچھا جائے اے اینٹ کدھر چلی؟ وہ کہی گی میں اپنی مرضی سے جاہی ہو کسی کی کیا ہمت کہ مجھے اس راہ پر ڈالے۔ہماری مثال ابھی کچھ ایسی ہی ہے،جو حکم اس کعبہ (امریکہ) سے آتا ہے اس پر سر تسِلیم خم ہوتا ہے ساتھ کہتے ہیں یہ ہماری اپنی مرضی ہے،اور وہ! خانہ کعبہ پر حملے کی تجویز پیش کرتے ہیں ہے نا کمال! بعد میں بے شک معافی مانگ لو ایک بار دل کی بات تو زبان پر لے آؤ۔ آردیننس آئے اس پر عمل ہو ، مدارس کی رجسٹریشن ہونی چاہیئے۔یوں ان کو ایک مقام حاصل ہو گا۔مگر غیر ملکی طالب علموں کے انخلاء والا معاملہ کچھ ٹھیک نہیں اس سے ان ممالک میں پاکستان کا امیج مجروح ہونے کا اندیشہ ہے جن سے یہ طالب علم یہاں آئے ہاں اگر ان طلبہ کی رجسٹریشن کر لی جاتی تو بہتر تھااور صرف مدارس آرڈیننس کیوں؟ این جی اوز آڈیننس بھی کیوں نہیں؟ اپنی رائے یہاں بھی دیں