ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 05/07/05

یوں کرنا

شام کو جب کبھی
خاموشی سے نہ تم بیٹھ سکو
تو اتنا تم کر لینا
میرے گھر کا نمبر ملا کر
مجھ سے کچھ باتیں کرنا
کچھ اپنے من کی باتیں کہنا
کچھ میرے دل کا حال سننا
پھر میری کسی بات پر
مجھ سے تم روٹھ جانا
میں تجھ کو منانے کی خاطر
تیرے پاس چلا آؤتو پھر
تم مجھ سے نہ ناراض رہنا
پھر دونوں مل کر سیر کو جائیں گے
شام ڈھلے واپس آئیں گے
شب تم مجھ سے جدا ہوکر
تھوڑا سا بے چین ہونا
رات میں بستر پر لیٹ کر
میرا خیال ذہن میں لانا
تم پھر سو جانا
رات کوتم سوتے میں سپنے میرے دیکھنا
صبح اٹھ کر میرا ایک کام کرنا
کل والے اعمال کو
آج دوبارہ دوہرانا
یہ سب نہ اگر تم کر سکو
تو میرے خیالوں میں کھو کر
خاموشی سے بیٹھے رہنا
-{میری اپنی تنگ بندی}-