ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 05/03/05

بے تکی کو بے طقی

پچھلے دنوں بہت سے دوست احباب و اردو بلاگرز نے اِملا کی غلطی کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی اور کہا ہے کہ میں نے بے تکی کو بے طقی غلط لکھا ہے ۔ تمام احباب درست ہیں۔ ایسا لکھنے کی ایک وجہ اپنے بے تکے پن کو ظاہر کرناہے۔

ایسا بے تکہ پن آپ کو انگریزی میں بھی نظر آئے گا تاکہ پڑھنے والا متوجہ ہو جیسے

school = skool , photo = Foto , college = kallege ,computer = kamputer

بعض اوقات کسی لفظ کو پڑھنے کا انداز [طریقہ] اِس کے معنوں کو تبدیل کر دیتا ھے اِس سلسلے میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ جو ہمارے ماموں کا ہے ملاحظہ ہو،یہ اُس وقت کی بات ہے جب وہ میٹرک کے طالب علم تھے،وہ انگریزی کا پرچہ دے کر آئے توبڑے ماموں نے اُن سے پرچہ لے سُننا شروع کیا کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں [اُن کی انگلش بھی میری طرح بس ایوے ہی تھی شاید] ایک مضمون "میرے دوست"کا ایک فقرے کو ماموں نے یوں سُنایا۔ We both go school to get her بڑے ماموں نے جملہ سنا اور چونکے پرچے کی پشت پر جملہ تحریر کرنے کو کہا تو وہ کچھ اِس انداز میں لکھا گیا۔ We both go school together یوں لفظ کا مطلب ہی تبدیل ہو گیا۔

ایسا ہی حال آپ اِس لفظ کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں۔ Assume = Ass+u+me اکٹھا پڑھنے پر "فرض کریں" اور توڑنے پر "آپ،میں کند ذہن" انگریزی زبان کے علاوہ لفظوں کا یہ کھیل اردو زبان میں بھی کھیلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر یونس بٹ[مشہور مزاح نگار] اپنے ٹی وی ڈراموں میں کافی استعمال کرتے ہیں۔مثلاً مذاکرات ہوئے[بات چیت ہوئی]۔ مذاق رات ہوئے[رات میں کافی مذاق ہوئے] ۔

اِس طرح آپ کو تلاش پر بہت سے الفاظ مل جائے گے جن کو بولنے،پڑھنے یا لکھنے سے اِن کا مفہوم تبدیل ہو جاتا ہے۔ یوں بات میں ایک مزاح کا پہلو آ جاتا ہے۔تحریر میں ہم قافیہ الفاظ کے بعد ایسے الفاظ کا استعمال ایک خاص قسم کی مزاح نگاری کا سبب بنتا ہے۔ اِس طرح بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو ایک شخص کی اپنی ذہنی پیداوار ہوتے ہیں، جیسے پاکستانی صحافت نے لفظ "لوٹا" بے ضمیر سیاست دانوں کے لئے بھی مخصوص کر رکھا ہے۔ایک ہی زبان کے یا مختلف زبانوں کے ہم آواز مگر مختلف معنوں والے الفاظ کا نہایت اعلٰی استعمال کیا جا سکتا ہے مثلاً

١۔ تمہارا کرکٹ کا شوق [اردو] اہل محلہ کے لئے باعثِ شوق[انگریزی] ہے۔

٢۔ جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے[پنجابی میں کھوتا گدھے کو کہتے ھیں]۔

یوں لفظوں کا ہیرپھیر ذومعنی جملوں کا سبب بنتا ہے۔جو پڑھنے یا سننے والے کے لئے وقتی طور پر جہاں مسکراہٹ کا وسیلہ بنتا ہے وہاں ہی کہنے والے کے لئے بات کو گول مول کر کے بیان کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اب آپ کی مرضی ہے آپ بے طقی کو بے تکی پڑھے یا بے طوق کی [مطلب بغیر طوق والی یعنی جو ہر قید سے آزاد ہو]۔ کیا کہا؟آپ نے کیسی بے تکی بات ہے ۔