ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 02/23/05

ہم لوگ نہ تھے ایسے

ہم لوگ نہ تھے ایسے
ہیں جیسےنظر آ تے
اے وقت گواہی دے
ہم لوگ نہ تھے ایسے
یہ شہر نہ تھا ایسا
یہ روگ نہ تھے ایسے
دیوار نہ تھے رستے
زندان نہ تھی بستی
خلجان نہ تھی ہستی
یوں موت نہ تھی سستی
یہ آج جو صورت ہے
حالات نہ تھے ایسے
تفریق نہ تھی ایسی
سنجو گ نہ تھے ایسے
اےوقت گواہی دے
ہم لوگ نہ تھے ایسے

تسلسل

اے پھول یہ پھول میرے پھول کو دینا
میرے پھول سے کہنا یہ پھول تیرے پھول نے دیا ہے
*******

نہ کر نہیں نہیں اب وقت نہیں،نہیں ک
ا تیری ایک نہیں نے مجھے چھوڑ انہیں کہیں کا
*******
سب لوگ آئے میرے جنازے کےپیچھے
اک وہ نہ آیا میرے جنازے کےپیچھے
وہ کیسے آتا میرے جنازے کے پیچھے
جنازہ تھا اس کا میرے جنازے کےپیچھے
*******
نظر ہی نظر میں، نظر نے کہا نظر سے
وہ اگر نظر آئے تو نظر نہ ملانا نظر کی قسم ،نظر لگ جائے گی